اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "یورپین صہیونیت مخالف جماعت" نے فرانسیسی سینٹ کے نام ایک خط میں فاش کیا ہے کہ اسرائیلی قومیت کے حامل فرانسیسی بھی "1959 کے دوطرفہ اسرائیلی فرانسیسی کنونشن" کے تحت، 2006 میں لبنانی عوام کے خلاف صہیونی ریاست کی 33 روزہ جنگ اور 2008 میں غزہ کے نہتے عوام کے خلاف اس ریاست کی 22 روزہ جنگ کے دوران، صہیونی افواج کے شانہ بشانہ لڑے ہیں۔اس خط میں فاش کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی جنگوں میں فرانس ـ اسرائیل کے ریزرو فوجی اسرائیل کی جعلی ریاست کی خدمت کرتے آئے ہیں۔ اس خط میں بیان کیا گیا ہے کہ حال ہی میں بدنام زمانہ صہیونی جاسوسی ادارے موساد نے اپنے کئی ایجنٹوں کو فرانس کے پاسپورٹ دلوا کر دبئی روانہ کیا جنہوں نے حال ہی میں حماس کے ایک راہنما کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے۔ فرانس کی صہیونیت مخالف جماعت نے فرانس ـ اسرائیل کے دو قومیتی منصوبے سے ناجائزہ فائدہ اٹھانے کے مختلف واقعات پر زبردست تنقید کی ہے اور فرانسیسی سینت سے مطالہ کیا ہے کہ بین الاقوامی تنازعات میں فرانس کی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لئے فوری طور قانون سازی کرے۔ یادرہے کہ حال ہی میں بعض رپورٹیں شائع ہوئیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ 2006 کے دوران فرانسیسی فوج کے سپاہیوں نے اپنی ڈیوٹی کی مدت مقبوضہ فلسطین میں گذاری ہے اور اس عرصے میں وہ اسرائیلی جارحیتوں میں صہیونی فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑے ہیں۔ فرانس کی صہیونیت مخالف جماعت متعدد سیاسی، سماجی شخصیات سمیت شیعہ راہنماؤں کی کوششوں سے معرض وجود میں آئی ہے۔ ....................../110
17 مئی 2010 - 19:30
News ID: 180935
فرانس کی ایک صہیونیت مخالف جماعت نے فرانس کی سینٹ کے نام ایک خط کے ذریعے 33 روزہ جنگ میں اسرائیلی افواج میں فرانسیسی اہلکاروں کی موجودگی پر شدید تنقید کی ہے۔